This is the head of your page. Example HTML page This is the body of your page. This is the head of your page. Example HTML page This is the body of your page. This is the head of your page. Example HTML page This is the body of your page. This is the head of your page. Example HTML page This is the body of your page. Informative Blogs with Noshahi: namaz e eid ka tarika. Eid ul Azha ki Namaz ka trika. Namaz e Eid ki sunnty or adab. نماز عید کا طریقہ۔ عیدالاضحیٰ کا حنفی طریقہ

namaz e eid ka tarika. Eid ul Azha ki Namaz ka trika. Namaz e Eid ki sunnty or adab. نماز عید کا طریقہ۔ عیدالاضحیٰ کا حنفی طریقہ

نَمازِ عِید کا طریقہ(حنفی)

پہلے اِس طرح نیّت کیجئے:’’میں نیّت کرتا ہوں دو رَکعَت نَماز عِیدُالْفِطْر(یا عِیدُالْاَضْحٰی)کی، ساتھ چھ زائد تکبیروں کے، واسِطے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے، پیچھے اِس امام کے‘‘ پھر کانوں تک ہاتھ اُٹھائیے اوراَللّٰہُ اَکْبَر کہہ کر حسبِ معمول ناف کے نیچے باندھ لیجئے اور ثَنا پڑھئے۔ پھر کانوں تک ہاتھ اُٹھائیے اور اَللّٰہُ اَکْبَر کہتے ہوئے لٹکا دیجئے۔پھر ہاتھ کانوں تک اٹھائیے اور اَللّٰہُ اَکْبَر کہہ کر لٹکا دیجئے۔ پھر کانوں تک ہاتھ اٹھائیے اور اَللّٰہُ اَکْبَر کہہ کر باندھ لیجئے یعنی پہلی تکبیر(نماز کی ابتدا والی) کے بعد ہاتھ باندھئے اِس کے بعد دوسری اور تیسری تکبیر میں لٹکائیے اور چوتھی میں ہاتھ باند ھ لیجئے۔ اس کو یوں یادرکھئے کہ جہاں قِیام میں تکبیر کے بعد کچھ پڑھنا ہے وہاں ہاتھ باندھنے ہیں اور جہاں نہیں پڑھنا وہاں ہاتھ لٹکانے ہیں۔ پھر اِمام تَعَوُّذاور تَسْمِیَہ آہِستہ پڑھ کر اَلْحَمْد شریف اور سورت جہر (یعنی بُلند آواز) کے ساتھ پڑھے، پھر رُکوع اور سجدے کرے۔ دوسری رَکعَت میں پہلے اَلْحَمْد شریف اور سُورت جہر کے ساتھ پڑھے ، پھر تین بار کانوں تک ہاتھ اٹھا کر اَللّٰہُ اَکْبَر کہئے اور ہاتھ نہ باندھئے اور چوتھی باربِغیر ہاتھ اْٹھا ئے  اَللّٰہُ اَکْبَر کہتے ہوئے رُکوع میں جائیے اور قاعِدے کے مطابِق نَماز مکمَّل کر لیجئے۔ ہر دو تکبیروں  کے درمیان تین بار ’’سُبحٰنَ اللہ“کہنے کی مِقدار چُپ کھڑا رہنا ہے۔(بہارِ شریعت،ج1،ص781۔ دُرِّمُختار،ج3،ص61)

نمازِ عید کےبارے میں  تفصیلی  احکامات جاننے کے لئے  امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رِسالہ ”نمازِ عید کا طریقہ“ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)  پڑھئے۔





 

یہ طریقہ حنفی مذہب کے لحاظ سے عام طور پر استعمال کیا

 

حنفی مذہب کے لحاظ سے عید پڑھنے کا طریقہ مندرجہ ذیل ہے:

 

1: غسل کی تیاری: عید کے دن صبح کے وقت غسل کرنا سنت مآب ہے۔ اس سے پہلے پاکیزگی کی حالت میں رہنا ضروری ہے۔

2: سنت نماز عید: عید کے دن دو رکعت نماز عید پڑھی جاتی ہے۔ نماز عموماً مسجد یا عید گاہ میں جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔ نماز عید کی تشریع نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت پر مبنی ہے۔

 

3: خطبہ عید: نماز عید کے بعد امام یا خطیب خطبہ عید پڑھتا ہے۔ خطبہ میں دینی مسائل، تذکرے، اخلاقی باتیں، اور معاشرتی مسائل پر بحث کی جاتی ہیں۔

 

4: تکبیراتِ تشریق: عید کے دن تکبیراتِ تشریق پڑھنا سنت مآب ہے۔ یہ تکبیرات عبارتیں ہیں جو خصوصاً عید کے دنوں میں زیادہ بلند آواز سے کہی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر، "الله اکبر، الله اکبر، لا إله إلا الله، الله اکبر، الله اکبر، ولله الحمد"۔

 

5: عیدی دینا: عید کے موقع پر عیدی دینا سنت مآب ہے۔ عیدی معمولاً بچوں کو دی جاتی ہے تاکہ وہ اسے خوشی سے منائیں۔

 

عیدین کا بیان

مسائلِ فقہیّہ

عیدین کی نماز واجب ہے مگر سب پر نہیں بلکہ انھيں پر جن پر جمعہ واجب ہے اور اس کی ادا کی وہی شرطیں ہیں جو جمعہ کے ليے ہیں صرف اتنا فرق ہے کہ جمعہ میں خطبہ شرط ہے اور عیدین میں سنت، اگر جمعہ میں خطبہ نہ پڑھا تو جمعہ نہ ہوا اور اس میں نہ پڑھا تو نماز ہوگئی مگر بُرا کیا۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ جمعہ کا خطبہ قبل نماز ہے اور عیدین کا بعد نماز، اگر پہلے پڑھ لیا تو بُرا کیا، مگر نماز ہوگئی لوٹائی نہیں جائے گی اور خطبہ کا بھی اعادہ نہیں اور عیدین میں نہ اذان ہے نہ اقامت، صرف دوبار اتنا کہنے کی اجازت ہے۔ اَلصَّلٰوۃُ جَامِعَۃٌ ؕ۔[1] (عالمگیری، درمختار وغیرہما) بلاوجہ عيد کی نماز چھوڑنا گمراہی و بدعت ہے۔[2] (جوہرہ نيرہ)

مسئلہ ۱: گاؤں میں عیدین کی نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔[3] (درمختار) (بہارِ شریعت ،جلد اول،حصہ چہارم،صفحہ۷۷۹)

 

نماز عید کا طریقہ

 

نماز عید کا طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت واجب عیدالفطر یا عيداضحی کی نیت کر کے کانوں تک ہاتھ اٹھائے اوراللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لے پھر ثنا پڑھے پھر کانوں تک ہاتھ اٹھائے اوراللہ اکبر کہتا ہوا ہاتھ چھوڑ دے پھر ہاتھ اٹھائے اوراللہ اکبر کہہ کر ہاتھ چھوڑ دے پھر ہاتھ اٹھائے اوراللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لے یعنی پہلی تکبیر میں ہاتھ باندھے، اس کے بعد دو تکبیروں میں ہاتھ لٹکائے پھر چوتھی تکبیر میں باندھ لے۔ اس کو یوں یاد رکھے کہ جہاں تکبیر کے بعد کچھ پڑھنا ہے وہاں ہاتھ باندھ ليے جائیں اورجہاں پڑھنا نہیں وہاں ہاتھ چھوڑ ديے جائیں، پھر امام اعوذ اور بسم اللہ آہستہ پڑھ کر جہر کے ساتھ الحمد اور سورت پڑھے پھر رکوع و سجدہ کرے، دوسری رکعت میں پہلے الحمد و سورت پڑھے پھر تین بار کان تک ہاتھ لے جا کراللہ اکبر کہے اور ہاتھ نہ باندھے اور چوتھی بار بغیر ہاتھ اٹھائےاللہ اکبر کہتا ہوا رکوع میں جائے، اس سے معلوم ہوگیا کہ عیدین میں زائد تکبیریں چھ ہوئیں، تین پہلی ميں قراء ت سے پہلے اور تکبیر تحریمہ کے بعد اور تین دوسری میں قراء ت کے بعد، اور تکبیر رکوع سے پہلے اور ان چھوؤں تکبیروں میں ہاتھ اٹھائے جائیں گے اور ہر دو تکبیروں کے درمیان تین تسبیح کی قدر سکتہ کرے اور عیدین میں مستحب یہ ہے کہ پہلی میں سورۂ جمعہ اور دوسری میں سورۂ منافقون پڑھے یا پہلی میں سَبِّحِ اسْمَ اور دوسری میں ھَلْ اَ تٰکَ ۔ [4] (درمختار وغیرہ)

مسئلہ ۸: امام نے چھ تکبیروں سے زیادہ کہیں تو مقتدی بھی امام کی پیروی کرے مگر تیرہ سے زیادہ میں امام کی پیروی نہیں۔[5] (ردالمحتار)

مسئلہ ۹: پہلی رکعت میں امام کے تکبیر کہنے کے بعد مقتدی شامل ہوا تو اسی وقت تین تکبیریں کہہ لے اگرچہ امام نے قراء ت شروع کر دی ہو اور تین ہی کہے، اگرچہ امام نے تین سے زیادہ کہی ہوں اور اگراس نے تکبیریں نہ کہیں کہ امام رکوع میں چلا گیا تو کھڑے کھڑے نہ کہے بلکہ امام کے ساتھ رکوع میں جائے اور رکوع میں تکبیر کہہ لے اور اگر امام کو رکوع میں پایا اور غالب گمان ہے کہ تکبیریں کہہ کر امام کو رکوع میں پا لے گا تو کھڑے کھڑے تکبیریں کہے پھر رکوع میں جائے ورنہاللہ اکبر کہہ کر رکوع میں جائے اور رکوع میں تکبیریں کہے پھر اگر اس نے رکوع میں تکبیریں پوری نہ کی تھیں کہ امام نے سر اٹھا لیا تو باقی ساقط ہوگئیں اور اگر امام کے رکوع سے اٹھنے کے بعد شامل ہوا تو اب تکبیریں نہ کہے بلکہ جب اپنی پڑھے اس وقت کہے اور رکوع میں جہاں تکبیر کہنا بتایا گیا، اس میں ہاتھ نہ اٹھائے اور اگر دوسری رکعت میں شامل ہوا تو پہلی رکعت کی تکبیریں اب نہ کہے بلکہ جب اپنی فوت شدہ پڑھنے کھڑا ہو اس وقت کہے اور دوسری رکعت کی تکبیریں اگر امام کے ساتھ پا جائے، فبہا ورنہ اس میں بھی وہی تفصیل ہے جو پہلی رکعت کے بارہ میں مذکور ہوئی۔ [6] (عالمگیری، درمختار وغیرہما)

مسئلہ ۱۰: جو شخص امام کے ساتھ شامل ہوا پھر سو گیا یا اس کا وضو جاتا رہا، اب جو پڑھے تو تکبیریں اتنی کہے جتنی امام نے کہیں، اگرچہ اس کے مذہب میں اتنی نہ تھیں۔ [7] (عالمگیری)

مسئلہ ۱۱: امام تکبیر کہنا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا تو قیام کی طرف نہ لوٹے نہ رکوع میں تکبیر کہے۔ [8] (ردالمحتار)

مسئلہ ۱۲: پہلی رکعت میں امام تکبیریں بھول گیا اور قراء ت شروع کر دی تو قراء ت کے بعد کہہ لے يا رکوع ميں اور قراء ت کا اعادہ نہ کرے۔[9] (غنیہ، عالمگیری)

مسئلہ ۱۳: امام نے تکبیراتِ زوائد میں ہاتھ نہ اٹھائے تو مقتدی اس کی پیروی نہ کرے بلکہ ہاتھ اٹھائے۔ [10] (عالمگیری وغيرہ)

مسئلہ ۱۴: نماز کے بعد امام دو خطبے پڑھے اور خطبۂ جمعہ میں جو چیزیں سنت ہیں اس میں بھی سنت ہیں اور جو وہاں مکروہ یہاں بھی مکروہ صرف دو باتوں میں فرق ہے ایک یہ کہ جمعہ کے پہلے خطبہ سے پیشتر خطیب کا بیٹھنا سنت تھا اور اس میں نہ بیٹھنا سنت ہے دوسرے یہ کہ اس میں پہلے خطبہ سے پیشتر نو بار اور دوسرے کے پہلے سات بار اور منبر سے اترنے کے پہلے چودہ باراللہ اکبر کہنا سنت ہے اور جمعہ میں نہیں۔ [11] (عالمگیری درمختار وغیرہما)

مسئلہ ۱۵: عیدالفطر کے خطبہ میں صدقۂ فطر کے احکام کی تعلیم کرے، وہ پانچ باتيں ہیں:

(۱) کس پر واجب ہے؟ (۲) اور کس کے ليے؟ (۳) اور کب؟ (۴) اور کتنا؟ (۵) اور کس چیز سے؟۔

بلکہ مناسب یہ ہے کہ عید سے پہلے جو جمعہ پڑھے اس میں بھی یہ احکام بتا ديے جائیں کہ پیشتر سے لوگ واقف ہو جائیں اور عيداضحی کے خطبہ میں قربانی کے احکام اور تکبیرات تشریق کی تعلیم کی جائے۔[12] (درمختار، عالمگیری)

مسئلہ ۱۶: امام نے نماز پڑھ لی اور کوئی شخص باقی رہ گیا خواہ وہ شامل ہی نہ ہوا تھا یا شامل تو ہوا مگر اس کی نماز فاسد ہوگئی تو اگر دوسری جگہ مل جائے پڑھ لے ورنہ نہیں پڑھ سکتا، ہاں بہتر یہ ہے کہ یہ شخص چار رکعت چاشت کی نماز پڑھے۔[13] (درمختار)

کے سبب عید کے دن نماز نہ ہو سکی (مثلاً سخت بارش ہوئی یا ابر کے سبب چاند نہیں دیکھا گیا اور گواہی ایسے وقت گزری کہ نماز نہ ہو سکی یا ابر تھا اور نماز ایسے وقت ختم ہوئی کہ زوال ہو چکا تھا) تو دوسرے دن پڑھی جائے اور دوسرے دن بھی نہ ہوئی تو عیدالفطر کی نماز تیسرے دن نہیں ہو سکتی اور دوسرے دن بھی نماز کا وہی وقت ہے جو پہلے دن تھا یعنی ایک نیزہ آفتاب بلند ہونے سے نصف النہار شرعی تک اور بلاعذر عیدالفطر کی نماز پہلے دن نہ پڑھی تو دوسرے دن نہیں پڑھ سکتے۔ [14] (عالمگیری، درمختار وغیرہما)

مسئلہ ۱۸: عيداضحی تمام احکام میں عیدالفطر کی طرح ہے صرف بعض باتوں میں فرق ہے، اس میں مستحب یہ ہے کہ نماز سے پہلے کچھ نہ کھائے اگرچہ قربانی نہ کرے اور کھا لیا تو کراہت نہیں اور راستہ میں بلند آواز سے تکبیر کہتا جائے اور عيداضحی کی نماز عذر کی وجہ سے بارہویں تک بلا کراہت مؤخر کر سکتے ہیں، بارہویں کے بعد پھر نہیں ہو سکتی اور بلاعذر دسویں کے بعد مکروہ ہے۔[15](عالمگیری وغيرہ)

مسئلہ ۱۹: قربانی کرنی ہو تو مستحب یہ ہے کہ پہلی سے دسویں ذی الحجہ تک نہ حجامت بنوائے، نہ ناخن ترشوائے۔[16] (ردالمحتار)

مسئلہ ۲۰: عرفہ کے دن یعنی نویں ذی الحجہ کو لوگوں کا کسی جگہ جمع ہو کر حاجیوں کی طرح وقوف کرنا اور ذکر و دُعا میں مشغول رہنا صحیح يہ ہے کہ کچھ مضایقہ نہیں جبکہ لازم و واجب نہ جانے اور اگر کسی دوسری غرض سے جمع ہوئے، مثلاً نماز استسقا پڑھنی ہے، جب تو بلا اختلاف جائز ہے اصلاً حرج نہیں۔[17] (درمختار وغیرہ)

مسئلہ ۲۱: بعد نمازِ عید مصافحہ [18] و معانقہ کرنا[19] جیسا عموماً مسلمانوں میں رائج ہے بہتر ہے کہ اس میں اظہارِ مسرّت ہے۔[20](وشاح الجید)

مسئلہ ۲۲: نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک ہر نماز فرض پنجگانہ کے بعد جو جماعت مستحبہ کے ساتھ ادا کی گئی ایک بار تکبیر بلند آواز سے کہنا واجب ہے اور تین بار افضل اسے تکبیر تشریق کہتے ہیں، وہ یہ ہے:

اللہُ اکبراللہُ اکبر لَآ اِلٰـہَ اِلَّااللہ ُوَاللہُ اکبراللہُ اکبر وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ ؕ[21] (تنویر الابصار وغیرہ)

مسئلہ ۲۳: تکبیر تشریق سلام پھیرنے کے بعد فوراً واجب ہے یعنی جب تک کوئی ایسا فعل نہ کیا ہو کہ اس نماز پر بنا نہ کر سکے، اگر مسجد سے باہر ہوگیا یا قصداً وضو توڑ دیا یا کلام کیا اگرچہ سہواً تو تکبیر ساقط ہوگئی اور بلا قصد وضو ٹوٹ گیا تو کہہ لے۔ [22] (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۲۴: تکبیر تشریق اس پر واجب ہے جو شہر میں مقیم ہو یا جس نے اس کی اقتدا کی اگرچہ عورت یا مسافر یا گاؤں کا رہنے والا اور اگر اس کی اقتدا نہ کریں تو ان پر واجب نہیں۔ [23] (درمختار)

مسئلہ ۲۵: نفل پڑھنے والے نے فرض والے کی اقتدا کی تو امام کی پیروی ميں اس مقتدی پر بھی واجب ہے اگرچہ امام کے ساتھ اس نے فرض نہ پڑھے اور مقیم نے مسافر کی اقتدا کی تو مقیم پر واجب ہے اگرچہ امام پر واجب نہیں۔ [24] (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۲۶: غلام پر تکبیر تشریق واجب ہے اور عورتوں پر واجب نہیں اگرچہ جماعت سے نماز پڑھی، ہاں اگر مرد کے پیچھے عورت نے پڑھی اور امام نے اس کے امام ہونے کی نیت کی تو عورت پر بھی واجب ہے مگر آہستہ کہے۔ يوہيں جن لوگوں نے برہنہ نماز پڑھی ان پر بھی واجب نہیں، اگرچہ جماعت کریں کہ ان کی جماعت جماعتِ مستحبہ نہیں۔ [25] (درمختار، جوہرہ وغیرہما)

مسئلہ ۲۷: نفل و سنت و وتر کے بعد تکبیر واجب نہیں اور جمعہ کے بعد واجب ہے اور نماز عید کے بعد بھی کہہ لے۔ [26] (درمختار)

مسئلہ ۲۸: مسبوق و لاحق پر تکبیر واجب ہے، مگر جب خود سلام پھیریں اس وقت کہیں اور امام کے ساتھ کہہ لی تو نماز فاسد نہ ہوئی اور نماز ختم کرنے کے بعد تکبیر کا اعادہ بھی نہیں۔ [27] (ردالمحتار)

مسئلہ ۲۹: اور دِنوں میں نماز قضا ہوگئی تھی ایّام تشریق میں اس کی قضا پڑھی تو تکبیر واجب نہیں۔ يوہيں ان دنوں کی نمازیں اور دنوں میں پڑھیں جب بھی واجب نہیں۔ يوہيں سال گذشتہ کے ایّام تشریق کی قضا نمازیں اس سال کے ایّام تشریق میں پڑھے جب بھی واجب نہیں، ہاں اگر اسی سال کے ایّام تشریق کی قضا نمازیں اسی سال کے انھيں دنوں میں جماعت سے پڑھے تو واجب ہے۔[28](ردالمحتار)

مسئلہ ۳۰: منفرد[29] پر تکبیر واجب نہیں۔[30] (جوہرہ نیرہ) مگر منفرد بھی کہہ لے کہ صاحبین [31] کے نزدیک اس پر بھی واجب ہے۔

مسئلہ ۳۱: امام نے تکبیر نہ کہی جب بھی مقتدی پر کہنا واجب ہے اگرچہ مقتدی مسافر یا دیہاتی یا عورت ہو۔ [32] درمختار،ردالمحتار)

مسئلہ ۳۲: ان تاریخوں میں اگر عام لوگ بازاروں میں باعلان تکبیریں کہيں تو انہيں منع نہ کیا جائے۔ [33] (درمختار) (بہارِ شریعت ،جلد اول،حصہ چہارم،صفحہ۷۸۲تا۷۸۵)


[1] ۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع عشر في صلاۃ العيدين، ج۱، ص۱۵۰.و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۵۱، وغيرہما .

[2] ۔۔۔۔۔۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ص۱۱۹.

[3] ۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۵۲.

[4] ۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۶۱، وغيرہ .

[5] ۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلبأمر الخليفۃ... إلخ، ج۳، ص۶۳.

[6] ۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع عشر في صلاۃ العيدين، ج۱، ص۱۵۱. و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۶۴ ۔ ۶۶، وغيرہما .

[7] ۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع عشر في صلاۃ العيدين، ج۱، ص۱۵۱.

[8] ۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلبأمر الخليفۃ... إلخ، ج۳، ص۶۵.

[9] ۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع عشر في صلاۃ العيدين، ج۱، ص۱۵۱.

[10] ۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.

[11] ۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۱۵۰، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۶۷، وغيرہما .

[12] ۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.

[13] ۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۶۷.

[14] ۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع عشر في صلاۃ العيدين، ج۱، ص۱۵۱،۱۵۲. و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۶۸، وغيرہما .

[15] ۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع عشر في صلاۃ العيدين، ج۱، ص۱۵۲، وغيرہ .

[16] ۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين مطلب في إزالۃ الشعر... إلخ، ج۳، ص۷۷.

[17] ۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۷۰، وغيرہ .

[18] ۔۔۔۔۔۔ یعنی ہاتھ ملانا۔

[19] ۔۔۔۔۔۔ یعنی گلے ملنا۔

[20] ۔۔۔۔۔۔ انظر: ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۸، ص۶۰۱.

[21] ۔۔۔۔۔۔ ''تنوير الأبصار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۷۱، ۷۴، وغيرہ .

[22] ۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلبالمختار أن الذبيح إسماعيل، ج۳، ص۷۳.

[23] ۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۷۴.

[24] ۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلبالمختار أن الذبيح إسماعيل، ج۳، ص۷۴.

[25] ۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۷۴. و ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العيدين، ص۱۲۲، وغيرہما .

[26] ۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلبالمختار أن الذبيح إسماعيل، ج۳، ص۷۳.

[27] ۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلبکلمۃ لابأس قدتستعمل في المندوب، ج۳، ص۷۶.

[28] ۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلبالمختار أن الذبيح إسماعيل، ج۳، ص۷۴.

[29] ۔۔۔۔۔۔ يعنی تنہا نماز پڑھنے والے۔

[30] ۔۔۔۔۔۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العيدين، ص۱۲۲.

[31] ۔۔۔۔۔۔ فقۂ حنفی ميں امام ابو يوسف اور امام محمد رَحْمَۃُاللہ ِتَعَالیٰ عَلَيْہِمَا کو صاحبين کہتے ہيں۔

[32] ۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلبکلمۃ لابأس قدتستعمل في المندوب، ج۳، ص۷۶.

[33] ۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۷۵.

 

 

نماز عید کے احکام

نماز عید واجب یا سنت؟

فقہ حنفی میں عید ین کی نماز واجب ہے،سنت نہیں۔

نماز عید کس پر واجب ہے؟

عید کی نماز شہر کے مردوں پر واجب ہے۔عورتوں پر نماز عید واجب نہیں، اسی طرح گاؤں دیہات کے لوگوں پر نماز عیدواجب نہیں۔

 

خطبہ

عیدین میں خطبہ پڑھنا سنت ہے، واجب نہیں، لیکن جب خطبہ شروع ہوجائے تو مقتدیوں پر اسے سننا واجب ہے۔

:خطبہ نماز کے بعد پڑھے

نماز کے بعدامام منبر پر کھڑے ہو کر دو خطبے پڑھے اور دونوں خطبوں کے درمیان اتنی دیر بیٹھتے جتنی دیر جمعہ کے دوخطبوں کے درمیان بیٹھتے ہیں۔

:دعا

عیدین کی نماز کے بعد دُعا مانگنا جائز بلکہ مستحب ہے،لیکن یہ دعا نماز کے بعد ہونی چاہیے، خطبوں کے بعد دعا کرنا بے اصل ہے۔(محمودیہ، احسن الفتاوی ، فتاوی دارالعلوم زکریا)

:اگر تکبیرات نکل جائیں

اگر کوئی شخص عید کی نماز میں ایسے وقت آکر شریک ہوا کہ امام تکبیریں پڑھ چکا تھا تو اگر قیام میں آکر شریک ہوا ہو تو نیت باندھنے کے بعد فوراً تکبیریں کہہ لے، اگر چہ امام قرات شروع کرچکا ہو اور اگر رکوع میں آکر شریک ہوا ہو تو اگر غالب گمان یہ ہو کہ تکبیروں سے فارغ ہونے کے بعد امام کے ساتھ رکوع مل جائے گا تو نیت باندھ کر تکبیر کہہ لے، اس کے بعد رکوع میں جائے،رکوع نہ ملنے کا خوف ہوتو رکوع میں شریک ہوجائے اور حالت رکوع میں بجائے تسبیح کے تکبیریں کہہ لے مگر حالت ِ رکوع میں تکبیریں کہتے وقت ہاتھ نہ اٹھائے اور اگر اس کی تکبیریں پوری ہونے سے پہلے امام رکوع سے سر اُٹھالے تو یہ بھی کھڑا ہوجائے اور اس صورت میں جتنی تکبیریں رہ گئی ہیں وہ معاف ہیں۔

عیدین میں سجدہ سہو نہیں:

عیدین کی نماز میں کوئی ایسی غلطی ہوجائے جس سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے تویہ سجدۂ سہوواجب نہیں۔یہ گنجائش ہر ایسی نماز میں ہے جس میں نمازیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو۔

:نماز عید سے پہلے اشراق ونوافل

جو مسلمان عید کی نماز پڑھنے والے یا پڑھنے کا ارادہ رکھنے والے ہیں ان کے لیے نماز عید سے پہلے کسی بھی طرح کے نوافل مکروہ ہیں، عید گاہ میں بھی اور گھر میں بھی؛نماز عید کے بعد عید گاہ میں مکروہ ہے گھر وں میں نماز عید کے بعد نوافل درست ہیں؛ لہٰذا دیہات میں نمازعید کے وقت نفل نماز پڑھنا ممنوع نہ ہوگا؛ کیونکہ دیہات میں عید ہوتی ہی نہیں۔

:حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 275)

وَتَجِبُ صَلَاةُ الْعِيدَيْنِ عَلَى أَهْلِ الْأَمْصَارِ كَمَا تَجِبُ الْجُمُعَةُ وَهَكَذَا رَوَى الْحَسَنُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ تَجِبُ صَلَاةُ الْعِيدِ عَلَى مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ صَلَاةُ الْجُمُعَةِ۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 275)

حَتَّى لَا تَجِبَ عَلَى النِّسْوَانِ وَالصِّبْيَانِ وَالْمَجَانِينِ

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 277)

وَكَيْفِيَّةِ أَدَائِهَا فَنَقُولُ: يُصَلِّي الْإِمَامُ رَكْعَتَيْنِ: فَيُكَبِّرُ تَكْبِيرَةَ الِافْتِتَاحِ، ثُمَّ يَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِك إلَى آخِرِهِ عِنْدَ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِ، وَعِنْدَ ابْنِ أَبِي لَيْلَى يَأْتِي بِالثَّنَاءِ بَعْدَ التَّكْبِيرَاتِ وَهَذَا غَيْرُ سَدِيدٍ؛ لِأَنَّ الِاسْتِفْتَاحَ كَاسْمِهِ وُضِعَ لِافْتِتَاحِ الصَّلَاةِ فَكَانَ مَحِلُّهُ ابْتِدَاءَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَتَعَوَّذُ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ ثَلَاثًا، وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ يُؤَخِّرُ التَّعَوُّذَ عَنْ التَّكْبِيرَاتِ بِنَاءً عَلَى أَنَّ التَّعَوُّذَ سُنَّةُ الِافْتِتَاحِ، أَوْ سُنَّةُ الْقِرَاءَةِ عَلَى مَا ذَكَرْنَا، ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ تَكْبِيرَةَ الرُّكُوعِ فَإِذَا قَامَ إلَى الثَّانِيَةِ يَقْرَأُ أَوَّلًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ ثَلَاثًا، وَيَرْكَعُ بِالرَّابِعَةِ فَحَاصِلُ الْجَوَابِ أَنَّ عِنْدَنَا يُكَبِّرُ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ تِسْعَ تَكْبِيرَاتٍ: سِتَّةٌ مِنْ الزَّوَائِدِ وَثَلَاثَةٌ أَصْلِيَّاتٌ: تَكْبِيرَةُ الِافْتِتَاحِ، وَتَكْبِيرَتَا الرُّكُوعِ وَيُوَالِي بَيْنَ الْقِرَاءَتَيْنِ فَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بَعْدَ التَّكْبِيرَاتِ وَفِي الثَّانِيَةِ قَبْلَ التَّكْبِيرَاتِ.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 277)

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ يَسْكُتُ بَيْنَ كُلِّ تَكْبِيرَتَيْنِ قَدْرَ ثَلَاثِ تَسْبِيحَاتٍ

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 276)

وَأَمَّا الْخُطْبَةُ فَلَيْسَتْ بِشَرْطٍ؛ لِأَنَّهَا تُؤَدَّى بَعْدَ الصَّلَاةِ وَشَرْطُ الشَّيْءِ يَكُونُ سَابِقًا عَلَيْهِ أَوْ مُقَارِنًا لَهُ

(أوجز المسالک ۳/ ۴۲۴)

ولأن المبادرۃ إلی صلاۃ العید مسنونۃ ، وفي الاشتغال بالتطوع تاخیرہا … وعامۃ أصحابنا علی أنہ لایتطوع قبل صلاۃ العید لا فی المصلی، ولا فی البیت، فأول الصلاۃ في ہذا الیوم صلاۃ العید۔

ترتیب وپیشکش: محمد انس عبدالرحیم

دارالافتاء جامعة السعید نرسری کراچی

۲۸ رمضان ۱۴۳۸ ہجری

 

 

سوال:- مفتی صاحب! برائے مہربانی عید کی سنتیں تفصیل سے بیان کریں اور اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ ہمیں یہ مبارک دن کس طرح گذارنا چاہیئے
جواب :- ذیل میں ایک مقالہ پیش کیا جارہا ہے، جو ہم نے عید کی سنتیں اور آداب کے موضوع پر تیار کیا ہے۔

(۱) مسواک سے منھ صاف کرنا۔

(۲) غسل کرنا۔

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يغتسل يوم الفطر ويوم الأضحى (سنن ابن ماجة، الرقم: ۱۳۱۵)

حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنھما فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن غسل فرماتے تھے۔

(۳) عمدہ کپڑے پہننا یعنی اپنے پاس موجود کپڑوں میں سے سب سے بہتر کپڑا پہننا۔ نیا کپڑا پہننا ضروری نہیں ہے۔

عن جابر رضي الله عنهما قال: كانت للنبي صلى الله عليه وسلم جبة يلبسها في العيدين، ويوم الجمعة (صحیح ابن خزيمة، الرقم: ۱۷٦٦)

حضرت جابر رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس ایک جبّہ تھا، جسے آپ صلی الله علیہ وسلم عیدین اور جمعہ کے دن پہنتے تھے۔

(٤) خوشبو لگانا۔

(۵) نمازِ عید عیدگاہ میں ادا کرنا۔

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى فأول شيء يبدأ به الصلاة (صحیح البخاري، الرقم: ۹۵٦)

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن عید گاہ تشریف لے جاتے تھے اور (وہاں پہونچ کر) سب سے پہلے نماز ادا فرماتے تھے (خطبہ سے پہلے نماز ادا فرماتے تھے)۔

(٦) عید الفطر کے دن عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے طاق عدد کھجوریں یا کوئی بھی میٹھی چیز کھانا۔

عید الاضحٰی کے دن، عید کی نماز سے پہلے کوئی چیز نہ کھانا (بلکہ عید الاضحیٰ کے دن میں سنّت یہ ہے کہ اس دن سب سے پہلی چیز جو انسان کے شکم میں جانی چاہیئے، وہ قربانی کا گوشت ہونا چاہیئے)۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه و سلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم تمرات (سنن ابن ماجة، الرقم: ۱۷۵٤)

حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم عید الفطر کے دن عید کی نماز کے لیے جانے سے قبل کچھ کھجوریں تناول فرماتے تھے۔

عن ابن بريدة عن أبيه رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان لا يخرج يوم الفطر حتى يأكل وكان لا يأكل يوم النحر حتى يرجع (سنن ابن ماجة، الرقم: ۱۷۵٦)

حضرت بریدہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ عید الفطر کے دن عید کی نماز کے لیے جانے سے قبل کچھ تناول فرماتے تھے اور عید الاضحیٰ کے دن عید کی نماز کے بعد ہی کھاتے تھے (عید الاضحیٰ کے دن جو چیز آپ صلی الله علیہ وسلم سب سے پہلے کھاتے تھے، وہ قربانی کا گوشت ہوتا تھا اور بیہقی کی روایت سے ثابت ہے کہ قربانی کے جانور میں کلیجی سب سے پہلی چیز تھی، جو آپ صلی الله علیہ وسلم عید الاضحیٰ کے دن تناول فرماتے تھے)۔

(۷) عیدگاہ جلدی جانا۔

(۸) عیدگاہ پیدل جانا۔

عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يخرج إلى العيد ماشيا ويرجع ماشيا. (سنن ابن ماجة، الرقم: ۱۲۹٤)

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم عید کی نماز کے لیے پیدل جاتے تھے اور پیدل واپس آتے تھے۔

(۹) عید الاضحیٰ کے دن عیدگاہ جاتے ہوئے آواز کے ساتھ تکبیر کہنا اور عید الفطر کے دن عیدگاہ جاتے ہوئے آہستہ تکبیر کہنا۔

(۱۰) ایک راستے سے عید گاہ جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا۔

عن جابر رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا كان يوم عيد خالف الطريق (صحیح البخاري، الرقم: ۹۸٦)

حضرت جابر رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم عید کے دن (عیدگاہ) ایک راستہ سے جاتے تھے اور دوسرے راستے سے واپس آتے تھے۔“

(۱۱) عید کی دو رکعت واجب نماز چھ زائد تکبیرات کے ساتھ بغیر اذان و اقامت پڑھنا۔

عن ابن عباس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم صلى يوم العيد بغير أذان ولا إقامة (سنن ابن ماجة، الرقم: ۱۲۷٤)

حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عید کے دن (عید کی) نماز بغیر اذان اور اقامت کے ادا کی۔

(۱۲) عید کی نماز کی پہلی رکعت میں امام سورۃ الاعلیٰ پڑھے اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ پڑھے۔

عن النعمان بن بشير رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ في العيدين وفي الجمعة بسبح اسم ربك الأعلى وهل أتاك حديث الغاشية (صحیح مسلم، الرقم: ۸۷۸)

حضرت نعمان بن بشیر رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم عید الفطر و عید الاضحیٰ اور نمازِ جمعہ میں سورۃ الاعلیٰ (پہلی رکعت میں) اور سورۃ الغاشیہ (دوسری رکعت میں) پڑھتے تھے۔

(۱۳) نمازِ عید کے بعد بیٹھے رہنا اور خطبہ سننا۔ خطبہ کے لئے بیٹھے رہنا سنتِ مؤکدہ ہے۔

(١٤) خطبہ کے دوران خاموش رہنا اور خطبہ بغور سننا واجب ہے۔

(۱۵) عید گاہ میں نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی بھی نفل نماز پڑھنا ممنوع ہے۔

عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج فصلى بهم العيد لم يصل قبلها ولا بعدها (سنن ابن ماجة، الرقم: ۱۲۹۱)

حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم عیدگاہ آئے، لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی اور نہ تو اس سے پہلے اور نہ ہی اس کے بعد آپ صلی الله علیہ وسلم نے کوئی (نفل) نماز پڑھی (یعنی عید نماز کے بعد آپ عیدگاہ میں کوئی نفل نماز نہیں پڑھتے تھے)۔

(١٦) عیدین کی راتوں میں جاگنا اور عبادت کرنا۔

عن أبي أمامة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال: من قام ليلتي العيدين محتسبا لله لم يمت قلبه يوم تموت القلوب (سنن ابن ماجة، الرقم: ۱۷۸۲)

حضرت ابو امامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی راتوں میں حصولِ ثواب کی امید کرتے ہوئے عبادت کرے، اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہوگا، جس دن دل مردہ ہو جائیں گے (جس دن دل مردہ ہو جائیں گے سے مراد وہ زمانہ ہے، جب لوگ فتنہ و فساد میں مبتلا ہو جائیں گے اور ان کے دل الله تعالٰی سے غافل ہو جائیں گے، اس وقت الله تعالٰی اپنے ذکر سے اس کے دل کو زندہ رکھیں گے)۔

 


 

 

 


1 comment: