This is the head of your page. Example HTML page This is the body of your page. This is the head of your page. Example HTML page This is the body of your page. This is the head of your page. Example HTML page This is the body of your page. This is the head of your page. Example HTML page This is the body of your page. Informative Blogs with Noshahi: قربانی کا طریقہ۔ قربانی کی حقیقت۔ قربانی کب واجب ہوئی۔ قربانی کب شروع ہوئی۔ مکمل تفصیلات .Qurbani ka complete trika

قربانی کا طریقہ۔ قربانی کی حقیقت۔ قربانی کب واجب ہوئی۔ قربانی کب شروع ہوئی۔ مکمل تفصیلات .Qurbani ka complete trika

 

قربانی کب شروع ہوئی:-

قربانی حضرت ابراہیمؑ کی سنت ہے جو اس اُمّت کے لیے باقی رکھی گئی۔’’قربانی‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جو ’’قرب‘‘ سے مشتق ہے۔ ’’قرب‘‘ کسی چیز کے نزدیک ہونے کو کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس دوری ہے۔ قرب اور دوری دونوں یکجا نہیں ہو سکتے۔ جب کہ فی الحقیقت قربانی حضرت ابراہیمؑ کے اس بے مثل جذبۂ ایثار کی عظیم یادگار ہے، جس کا ابراہیمؑ نے حکم الٰہی و رضائے الٰہی کی پیروی کرتے ہوئے اپنے جواں سال لخت جگر حضرت اسماعیلؑ کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کا عملی ثبوت پیش کیا اور ایک خواب کو حقیقت کا ایسا روپ دیا، جسے رب کائنات نے قبول فرما کر اسے فرزندان اسلام کے لیے سنت ابراہیمی کا درجہ قرار دے دیا۔



 


 

قربانی کا حقیقی مقصد اوراس کی حکمت

10

ذی الحجۃ وہ تاریخی، مبارک اور عظیم الشان قربانی کا یادگار دن ہے جب امت مسلمہ کے مورثِ اعلیٰ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بڑھاپے میں عطا ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حکم الٰہی کی خاطر قربان کرنے کا ایسا قدم اٹھایا کہ آج بھی اس منشائے خداوندی کی تعمیل پر چشم فلک حیران ہے جبکہ دوسری طرف فرمانبرداری وجانثاری کے پیکر آپ علیہ السلام کے فرزندحضرت اسماعیل علیہ السلام نے رضا مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی گردن اللہ کے حضور پیش کر کے قربانی کے تصور کو ہمیشہ کے لئے امرکرنے کا ایسا مظاہرہ کیا کہ خود ’’رضا‘‘ بھی ورطہ حیرت میں مبتلا ہوگئی۔

ان دونوں کی فرمانبرداری اور قربانی کو اسی وقت رب تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا اور آپ کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سلامتی کا پروا نہ عطا کر کے آپ علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ بھیج دیا جسے رب تعالی نے ذبحِ عظیم قرار دیا ہے۔چنانچہ ارشادِباری تعالی ہے :

وَفَدَيْنٰـهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ.(الصٰفٰت، 37: 107)

اور ہم نے عظیم قربانی کا فدیہ دے کر اس کو بچا لیا۔

قربانی کی تاریخی اہمیت پر قرآن حکیم کی یہ آیت دلالت کرتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

وَلِکُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّيَذْکُرُوا اسْمَ اﷲِ عَلٰی مَا رَزَقَهُمْ مِّنْم بَهِيْمَةِ الْاَنْعَام.

 

قربانی کب واجب ہوئی۔؟

9 ذی الحجہ سن 2 ہجری کو رسول اللہ ﷺ غزوۃ السویق سے واپس تشریف لائے،اور اگلے دن 10 ذی الحجۃ کو دو رکعت نماز عید ادا فرمائی اور دو مینڈھے قربان کئے،اور مسلمانوں کو قربانی کا حکم دیا،مسلمانوں کی یہ پہلی عید تھی،اور حج کی فرضیت سن 9 ہجری میں نازل ہوئی،اس سال آپﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر روانہ فرمایا، اور سن 10 ہجری میں آپ ﷺ نے خود حج ادا فرمایا۔

(سیرت المصطفیٰ، 2/178)

 

 

قربانی واجب ہونے کے شرائط

مسئلہ: قربانی واجب ہونے کے شرائط یہ ہیں:

1: اسلا ؔ م یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں۔

2: اقا مت یعنی مقیم ہونا، مسافر پر واجب نہیں،

3: تونگری یعنی مالک نصاب ہونا یہاں مالداری سے مراد وہی ہے جس سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد نہیں جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔

4: حر یت یعنی آزاد ہونا جو آزاد نہ ہو اوس پر قربانی واجب نہیں کہ غلام کے پاس مال ہی نہیں لہٰذا عبادت مالیہ اوس پر واجب نہیں۔ مرد ہونا اس کے لیے شرط نہیں۔ عورتوں پر واجب ہوتی ہے جس طرح مردوں پر واجب ہوتی ہے اس کے لیے بلوغ شرط ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے اور نابالغ پر واجب ہے تو آیا خود اوس کے مال سے قربانی کی جائے گی یا اوس کا باپ اپنے مال سے قربانی کریگا۔ ظاہرالروایۃ یہ ہے کہ نہ خود نابالغ پر واجب ہے اور نہ اوس کی طرف سے اوس کے باپ پر واجب ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔(الدرالمختار،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۴،وغیرہ)(درمختار وغیرہ)(بہارِ شریعت، ج۳، ص ۳۳۲)

قُربانی واجِب ہونے کیلئے کتنا مال ہونا چاہئے

ہربالِغ ،مُقیم، مسلمان مردو عورت ، مالکِ نصاب پر قربانی واجِب ہے۔(عالمگیری ج۵ص۲۹۲)مالکِ نصاب ہونے سے مُراد یہ ہے کہ اُس شخص کے پاس ساڑھے باوَن تولے چاندی یا اُتنی مالیَّت کی رقم یا اتنی مالیَّت کا تجارت کا مال یا اتنی مالیَّت کا حاجتِ اَصلِیَّہ کے علاوہ سامان ہو اور اُس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّیا بندوں کا اِتنا قَرضہ نہ ہو جسے ادا کر کے ذِکر کردہ نصاب باقی نہ رہے۔ فُقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں :حاجتِ اَصلِیّہ(یعنی ضَروریاتِ زندگی) سے مُراد وہ چیزیں ہیں جن کی عُمُوماً انسان کو ضَرورت ہوتی ہے اور ان کے بِغیر گزراوقات میں شدید تنگی ودُشواری محسوس ہوتی ہے جیسے رہنے کا گھر ، پہننے کے کپڑے، سُواری ، علمِ دین سے متعلِّق کتابیں اور پیشے سے متعلِّق اَوزار وغیرہ۔(الھدایۃ ج۱ص۹۶)اگر ’’حاجتِ اَصلِیَّہ ‘‘کی تعریف پیشِ نظر رکھی جائے تو بخوبی معلوم ہو گا کہ ’’ہمارے گھروں میں بے شمار چیزیں ‘‘ایسی ہیں کہ جو حاجتِ اَصلِیَّہ میں داخِل نہیں چُنانچہ اگر ان کی قیمت ’’ساڑھے باوَن تولہ چاندی ‘‘ کے برابر پہنچ گئی تو قربانی واجب ہو گی۔ میرے آقااعلیٰ حضرت ،امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے سُوال کیا گیا کہ ’’ اگر زید کے پاس مکانِ سُکُونت ( یعنی رہائشی مکان ) کے علاوہ دو ایک اور (یعنی مزید) ہوں تو اس پر قربانی واجب ہو گی یا نہیں ؟ ‘‘الجواب:واجب ہے ، جب کہ وہ مکان تنہا یا اس کے اور مال سے حاجتِ اَصلِیَّہ سے زائد ہو ، مل کر چھپَّن روپے (یعنی اتنی مالیَّت کہ جو ساڑھے باوَن تولے چاندی کے برابر ہو ) کی قیمت کو پہنچے ، اگرچِہ ان مکانوں کو کرائے پر چلاتا ہو یا خالی پڑے ہوں یا سادی زمین ہو بلکہ ( اگر ) مکانِ سُکُونت اتنا بڑا ہے کہ اس کا ایک حصّہ اس( شخص ) کے جاڑ ے (یعنی سردی اور) گرمی (دونوں ) کی سُکُونت (رہائش)کے لئے کافی ہو اور دوسرا حصّہ حاجت سے زیادہ ہو اور اس ( دوسرے حصّے ) کی قیمت تنہا یا اِسی قسم کے( حاجتِ اَصلِیَّہ )سے زائد مال سے مل کر نصاب تک پہنچے ، جب بھی قربانی واجب ہے۔(فتاوٰی رضویہ ج۲۰ ص ۳۶۱)

وَقت کے اندرشرائط پائے گئے تو ہی قُربانی واجِب ہو گی

مال اور دیگر شرائط قُربانی کے ایّام ( یعنی10ذُوالْحِجّۃِ الْحرامکی صبحِ صادِق سے لیکر 12ذُوالحِجّۃِ الْحرامکے غروبِ آفتاب تک)میں پائے جائیں جبھی قربانی واجِب ہو گی۔ اِس کا مسئلہ بیان کرتے ہوئیصَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی’’بہارِ شریعت ‘‘میں فرماتے ہیں :یہ ضَرورنہیں کہ دسویں ہی کو قربانی کر ڈالے، اس کے لیے گنجائش ہے کہ پورے وَقْت میں جب چاہے کرے لہٰذا اگر ابتدائے وَقت میں (10ذُوالْحِجّہ کی صبح ) اس کا اَہْل نہ تھا وُجُوب کے شرائط نہیں پائے جاتے تھے اور آخِر وَقْت میں (یعنی12ذُوالحِجّہکو غروبِ آفتاب سے پہلے) اَہْل ہوگیا یعنی وُجُوب کے شرائط پائے گئے تو اُس پر واجِب ہوگئی اور اگر ابتدائے وَقْت میں واجِب تھی اور ابھی(قربانی ) کی نہیں اور آخِر وَقْت میں شرائط جاتے رہے تو (قربانی )واجِب نہ رہی۔(عالمگیری ج۵ص۲۹۳)(ابلق گھوڑے سوار، ص۶ تا ۱۰)

 

 

 

 

 

     حضرت سَیِّدُناابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: اس آیتِ مبارکہ  سے مراد فرض نماز  اور عیدُ الْاَضْحٰی کے دن جانور ذَبْح کرنا ہے۔(تفسیر در منثور ،ج۸، ص۶۵۱)

قُربانی کے 6 حُروف کی نسبت سے قربانی کی فضیلت پر چھ فرامینِ مُصْطفٰی :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اىامِ قربانى مىں حُصولِ ثواب کی خاطر  قربانى کرنا ا ىسى نىکى ہے جس کا کوئى اور بدل نہىں۔لہٰذاثواب کمانےاور رِضائے الٰہی کی خاطر قربانی کرنے کی نیَّت سے قربانی کے چھ حروف کی نسبت سے قربانی کی فضلیت واَہْمیَّت پر چھ فرامین ِ مُصْطفیٰ آپ کے گوش گزارکرتا ہوں۔

 (1)حضرتِ سَیِّدُنا زید بن اَرْقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں : صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوان نے عرض کیا،'' یارسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم!یہ قربانیاں کیا ہیں؟'' آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا،'' تمہارے باپ ابراہیم علیہِ السَّلام کی سُنَّت ہیں ۔'' صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوان نے عرض کیا ،''یارسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم! ان میں ہمارے لئے کیا ثواب ہے؟ ''فرمایا،'' ہربال کے بدلے ایک نیکی ہے ۔''عرض کیا ، ''اور اُون میں ؟''فرمایا،'' اس کے ہربال کے بدلے بھی ایک نیکی ہے۔'' (ابن ماجہ ،کتاب الاضاحی ،باب ثواب الاضحیہ ،رقم ۳۱۲۷ ،ج۳ ،ص ۵۳۱)

 

 

مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیت تقرب ذبح کرنا قربانی ہے اور کبھی اوس جانور کو بھی اضحیہ اور قربانی کہتے ہیں جو ذبح کیا جاتا ہے۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جو اس امت کے لیے باقی رکھی گئی اور نبی کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّمکو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا، ارشاد فرمایا:

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ(۲)( پ۳۰،الکوثر:۲)

’’تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔‘‘

مسائل فقہیہ

قربانی کئی قسم کی ہے۔

1: غنی اور فقیر دونوں پر واجب،

2: فقیر پر واجب ہو غنی پر واجب نہ ہو،

3: غنی پر واجب ہو فقیر پر واجب نہ ہو۔

1: دونوں پر واجب ہو اوس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کی منت مانی یہ کہا کہ اﷲ (عزوجل) کے لیے مجھ پر بکری یا گائے کی قربانی کرنا ہے یا اس بکری یا اس گائے کو قربانی کرنا ہے۔

2: فقیر پر واجب ہو غنی پر نہ ہو اس کی صورت یہ ہے کہ فقیر نے قربانی کے لیے جانور خریدا اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہے اور غنی اگر خریدتا تو اس خریدنے سے قربانی اوس پر واجب نہ ہوتی۔

3: غنی پر واجب ہو فقیر پرواجب نہ ہو اس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کا وجوب نہ خریدنے سے ہو نہ منت ماننے سے بلکہ خدا نے جو اسے زندہ رکھا ہے اس کے شکریہ میں اور حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی سنت کے اِحیا میں ([1])جو قربانی واجب ہے وہ صرف غنی پر ہے(عالمگیری)۔(الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الأضحیۃ،الباب الاوّل فی تفسیرھا۔۔۔إلخ،ج۵،ص۲۹۱،۲۹۲)(بہارِ شریعت، ج۳، ص۳۲۷ تا ۳۳۱)


[1] ۔۔۔ یعنی سنت ابراہیمی کو قائم رکھنے کے لیے۔



 

 

قربانی کا طریقہ

( چاہے قربانی ہو یا ویسے ہی ذَبْح کرنا ہو)سنّت یہ چلی آ رہی ہے کہ ذَبْح کرنے والا اور جانور دونوں قبلہ رُو ہوں ، ہمارے عَلاقے( یعنی پاک و ہند) میں قِبلہ مغرِب (WEST ) میں ہے، اس لئے سرِذَبیحہ (یعنی جانور کا سر)جُنُوبSOUTH) کی طرف ہونا چاہئے تا کہ جانور بائیں (یعنی الٹے)پہلو لیٹا ہو،اور اس کی پیٹھ مشرِق(EAST) کی طرف ہو تا کہ اس کا مُنہ قبلے کی طرف ہو جائے، اور ذَبْح کرنے والا اپنا دایاں (یعنی سیدھا) پاؤں جانور کی گردن کے دائیں (یعنی سیدھے) حصّے(یعنی گردن کے قریب پہلو) پر رکھے اور ذَبْح کرے اور خود اپنا یا جانور کا مُنہ قبلے کی طرف کرنا ترک کیا تو مکروہ ہے۔( فتاوٰی رضویہ ج ۲۰ص ۲۱۶،۲۱۷)

قربانی کا جانور ذبح کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھی جائے

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ(۷۹)([1])اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)([2]) لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰ لِکَ اُمِرْتُ وَاَنَامِنَ الْمُسْلِمِیْنَ([3])اور جانورکی گردن کے قریب پہلو پر اپنا سیدھا پاؤں رکھ کراَللّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَر۔([4])پڑھ کر تیز چُھری سے جلد ذَبْح کردیجئے ۔ قربانی اپنی طرف سے ہو توذَبح کے بعد یہ دعا پڑھئے: اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَ السَّلَامُ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم([5])اگردوسرے کی طرف سے قربانی کریں تو مِنِّیکے بجائے مِنْ کہہ کر اُس کا نام لیجئے ۔( بوقتِ ذَبح پیٹ پر گھٹنا یا پاؤں نہ رکھئے کہ اس طرح بعض اوقات خون کے علاوہ غذا بھی نکلنے لگتی ہے)

مَدَنی التجا:قربانی میں دیکھ کر دعا پڑھتے وَقت رسالے پر ناپاک خون نہ لگنے پائے اس کا خیال فرمائیے ۔

بکری جنّتی جانور ہے

بکری کی عزّت کرو اور اِس سے مٹّی جھاڑو کیونکہ وہ جنّتی جانور ہے۔ (اَلْفِردَوس بمأثور الْخطّاب ج۱ص۶۹حدیث۲۰۱)

جانوروں پر رحم کی اپیل

گائے وغیرہ کوگرانے سے پہلے ہی قبلے کا تَعَیُّن کر لیا جائے ،لِٹانے کے بعد بِالخصوص پتھریلی زمین پر گھسیٹ کر قبلہ رُخ کرنا بے زَبا ن جانورکیلئے سخت اذیَّت کا باعث ہے ۔ ذَبْح کرنے میں اتنا نہ کاٹیں کہ چھری گردن کے مُہرے(ہڈی) تک پہنچ جائے کہ یہ بے وجہ کی تکلیف ہے پھر جب تک جانور مکمَّل طور پر ٹھنڈا نہ ہو جائے نہ اس کے پاؤں کاٹیں نہ کھال اُتاریں ، ذَبْح کر لینے کے بعد جب تک رُوح نہ نکل جائے چھری کٹے ہوئے گلے پر مَس(TOUCH) کریں نہ ہی ہاتھ۔بعض قصّاب جلد ’’ٹھنڈی ‘‘ کرنے کیلئے ذَبْح کے بعد تڑپتی گائے کی گردن کی زندہ کھال اُدھیڑ کر چُھری گھونپ کر دل کی رگیں کاٹتے ہیں ، اِسی طرح بکرے کوذَبْح کرنے کے فوراً بعد بے چارے کی گردن چٹخا دیتے ہیں ، بے زَبا نو ں پر اِس طرح کے مظالم نہ کئے جائیں ۔ جس سے بن پڑے اس کے لئے ضروری ہے کہ جانور کوبِلا وجہ اِیذا پہنچانے والے کو روکے ۔ اگر باوُجُودِ قدرت نہیں روکے گا تو خود بھی گنہگار اور جہنَّم کا حقدار ہو گا۔دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِداریمکتبۃُ الْمدینہ کی مطبوعہ 1197 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد 3صَفْحَہ660پر ہے:’’ جانو ر پرظُلم کرنا ذِمّی کافرپر(اب دنیا میں سب کافر حَربی ہیں )ظلم کرنے سے زیادہ بُرا ہے اور ذِمّی پر ظلم کرنا مسلم پر ظلم کرنے سے بھی بُرا ہے کیوں کہ جانور کا کوئی مُعِین و مددگار اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا نہیں اس غریب کو اس ظلم سے کون بچائے!‘‘ (دُرِّمُختارو رَدُّالْمُحتارج۹ص۶۶۲)

مرنے کے بعد مظلوم جانور مُسَلّط ہو سکتا ہے

ذَبْح کرنے کے بعد رُوح نکلنے سے قبل چُھریاں چلا کر بے زَبان جانوروں کو بِلاوجہ تکلیف دینے والوں کو ڈر جانا چاہئے کہیں مرنے کے بعد عذاب کیلئے یِہی جانور مُسَلَّط نہ کر دیا جائے۔دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ1012 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’جہنَّم میں لے جانے والے اعمال ‘‘جلد2 صَفْحَہ323 تا 324 پر ہے: انسان نے ناحق کسی چوپائے کو مارا یا اسے بھوکا پیاسا رکھا یا اس سے طاقت سے زیادہ کام لیا تو قِیامت کے دن اس سے اسی کی مثل بدلہ لیا جائے گا جو اس نے جانور پر ظلم کیایا اسے بھوکا رکھا۔ اس پر درجِ ذَیل حدیث ِ پاک دَلالت کرتی ہے۔چُنانچِہ رَحمت ِ عالَم ،نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جہنَّم میں ایک عورت کو اس حال میں دیکھا کہ وہ لٹکی ہوئی ہے اور ایک بلّی اُس کے چِہرے اور سینے کو نوچ رہی ہے اور اسے ویسے ہی عذاب دے رہی ہے جیسے اس(عورت) نے دنیا میں قید کر کے اور بھوکا رکھ کراسے تکلیف دی تھی۔ اس روایت کا حکم تمام جانوروں کے حق میں عام ہے۔(اَلزَّواجِرُج۲ ص۱۷۴)

کر لے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی

قبر میں ورنہ سزا ہوگی کڑی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

تُوبُوااِلیَ اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

قُربانی کے وَقت تماشا دیکھنا کیسا؟

قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذَبْح کرنا افضل اور بوقتِ ذَبْح بہ نیّتِ ثوابِ آخِر ت وہاں حاضِر رہنا بھی افضل ۔مگراسلامی بہن صِرف اُسی صورت میں وہاں کھڑی ہو سکتی ہے جب کہ بے پردگی کی کوئی صورت نہ ہو مَثَلاً اپنے گھر کی چار دیواری ہو، ذَابح ( یعنی ذَبْح کرنے والا) محرم ہو اور حاضِرین میں بھی کوئی نا مَحرم نہ ہو۔ ہاں غیر محرم نابالغ لڑکا موجود ہو تو حرج نہیں ۔ محض حَظِّ نفس(یعنی مزہ لینے) کی خاطر ذَبْح ہونے والے جانور کے گرد گھیرا ڈالنا، اُس کے چِلّانے اور تڑپنے پھڑکنے سے لطف اندوز ہونا، ہنسنا ،قہقہے بلند کرنا اور اس کا تماشا بنانا سراسر غفلت کی علامت ہے ۔ ذَبْح کرتے وَقْت یااپنی قُربانی ہو رہی ہو اُس کے پاس حاضِر رہتے وَقْت ادائے سنَّت کی نیَّت ہو نی چاہئے اور ساتھ ہی یہ بھی نیَّت کرے کہ میں جس طرح آج راہِ خدا میں جانور قربان کر رہاہوں ،بوقتِ ضَرورت اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی جان بھی قربان کردوں گا۔نیز یہ بھی نیَّت ہو کہ جانورذَبْح کرکے اپنے نفسِ اَمّارہ کو بھی ذَبْح کر رہا ہوں اور آیَندہ گناہوں سے بچوں گا۔ ذَبْح ہونے والے جانور پر رَحْم کھائے اور غور کرے کہ اگر اِس کی جگہ مجھے ذَبْحکیا جا رہا ہوتا اور لوگ تماشا بناتے اور بچّے تالیاں بجاتے ہوتے تو میری کیا کیفیت ہو تی!

ذَبیحہ کو آرام پہنچا یئے

حضرتِ سیِّدُنا شَدّاد بن اَوس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ الْمُرسَلین، خاتَمُ النَّبِیِّین ، جنابِ رحمۃٌ لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : اللہ تَعَالٰی نے ہر چیز کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے،لہٰذا جب تم کسی کو قتل کرو تو احسن(یعنی بہت اچّھے ) طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذَبح کرو تو اَحسن(یعنی خوب عمدہ) طریقے سے ذَبح کرو اورتم اپنی چُھری کو اچّھی طرح تیز کرلیا کرواورذَبیحہ کو آرام دیا کرو۔ (صَحیح مُسلِمص۱۰۸۰ حدیث۱۹۵۵)بوقتِ ذَبْح رضائے الٰہی کی نیّت سے جانور پر رَحْم کھانا کارِثواب ہے جیساکہ ایک صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : یارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! مجھے بکری ذَبْح کرنے پر رَحْم آتا ہے ۔ فرمایا:’’ اگر اس پر رَحْم کرو گے اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی تم پر رَحْم فرمائے گا۔ (مُسندِ اِمام احمد بن حنبلج۵ ص ۳۰۴حدیث ۱۵۵۹۲)

جانور کو بھوکا پیاسا ذَبح نہ کریں

صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں :قربانی سے پہلے اُسے چارا پانی دے دیں یعنی بھوکا پیاسا ذَبْح نہ کریں اور ایک کے سامنے دوسرے کو نہ ذَبْح کریں اور پہلے سے چُھری تیز کر لیں ایسا نہ ہو کہ جانور گرانے کے بعد اُس کے سامنے چُھری تیز کی جائے۔(بہار شریعت جلد ۳ ص ۳۵۲ ) یہاں ایک عجیب و غریب حکایت مُلاحَظہ ہو چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابو جعفر عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکبر فرماتے ہیں : ایک بار میں نے ذَبْح کیلئے بکری لِٹائی اِتنے میں مشہور بُزُرگ حضرتِ سیِّدُنا ایّوب سَختِیانی(سَخْ۔تِ۔یانی) قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی اِدھر آ نکلے ، میں نے چُھری زمین پر ڈال دی اور گفتگو میں مشغول ہوا، دَریں اَثنا بکری نے دیوارکی جَڑ میں اپنے کُھروں سے ایک گڑھا کھودا اور پاؤں سے چُھری اُس میں دھکیل دی اور اُس پر مِٹّی ڈال دی! حضرتِ سیِّدُنا ایّوب سَختِیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرمانے لگے:ارے دیکھو تو سہی! بکری نے یہ کیا کیا! یہ دیکھ کر میں نے پُختہ عزْم کر لیا کہ اب کبھی بھی کسی جانور کو اپنے ہاتھ سیذَبْح نہیں کروں گا۔ ( حیاۃُ الحیوان ج۲ ص۶۱)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس حکایت سے مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ یہ مُراد نہیں کہ ذَبْح کرناکوئی غَلط کام ہے ۔ بس اِس طرح کے واقِعات بُزُرگوں کے غلبۂ حال پر مَبنی ہوتے ہیں ۔ ورنہ مسئلہ یہی ہے کہ اپنے ہاتھ سے ذَبْح کرنا سنّت ہے۔

بکری چُھری کی طرف دیکھ رہی تھی

سرکارِ ابد قرار، شافِعِ روزِ شمار، بِاِذنپَرْوَرْدَگار دوعالم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک آدمی کے قریب سے گزرے، وہ بکری کی گردن پر پاؤں رکھ کر چُھری تیز کر رہا تھااور بکری اس کی طرف دیکھ رہی تھی، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے ارشاد فرمایا:’’کیا تم پہلے ایسا نہیں کر سکتے تھے؟ کیا تم اسے کئی موتیں مارنا چاہتے ہو؟ اسے لٹانے سے پہلے اپنی چُھری تیز کیوں نہ کر لی؟‘‘(اَلْمُستَدرَک لِلحاکم ج۵ ص۳۲۷ حدیث ۷۶۳۷،اَلسّنَنُ الکُبری لِلْبَیْہَقِی ج۹ ص۷۱ ۴ حدیث۹۱۴۱، مُلْتَقَطًا مِنَ الْحَدِیْثَین)

ذَبح کیلئے ٹانگ مت گھسیٹو!

امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کو دیکھا جو بکری کو ذَبْح کرنے کے لئے اسے ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹ رہا ہے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا : تیرے لئے خرابی ہو، اسے موت کی طرف اچّھے انداز میں لے کر جا۔ (مُصَنَّفعَبْد الرَّزّاق ج۴ص ۳۷۶حدیث ۸۶۳۶)

مکّھی پر رَحم کرنا باعثِ مغفِرت ہو گیا

کسی نے خواب میں حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی کو دیکھ کر پوچھا:ما فَعلَ اللّٰہُ بِکَ؟ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ جواب دیا : اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے بخش دیا،پوچھا: مغفِرت کا کیا سبب بنا؟ فرمایا: ایک مکّھی سیاہی(INK) پینے کے لئے میرے قلم پر بیٹھ گئی ،میں لکھنے سے رک گیا یہاں تک کہ وہ فارِغ ہو کر اُڑگئی۔(لطائفُ الْمِنَن وَالْاَخلاق لِلشَّعرانی ص۳۰۵)

مکّھی کو مارنا کیسا؟

یادرہے! مکھیاں تنگ کرتی ہوں تو ان کو مارنا جائز ہے تاہم جب بھی حُصولِ نَفْعْ یا دَفعِ ضَرر(یعنی فائدہ حاصِل کرنے یا نقصان زائِل کرنے) کیلئے مکھی یا کسی بھی بے زَبان کی جان لینی پڑے تو اُس کو آسان سے آسان طریقے پر مارا جائے خوامخواہ اُس کو بار بار زندہ کُچلتے رہنے یاایک وار میں مار سکتے ہوں پھر بھی زخم کھا کر پڑے ہوئے پر بِلاضَرورت ضَربیں لگاتے رہنے یا اُس کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُس کو تڑپا نے وغیرہ سے گُریز کیا جائے۔ اکثر بچّے نادانی کے سبب چیونٹیوں کو کچلتے رہتے ہیں اُن کو اِس سے روکا جائے ۔ چیونٹی بہت کمزور ہوتی ہے چٹکی میں اٹھانے یا ہاتھ یا جھاڑو سے ہٹانے سے عُمُوماً زخمی ہوجاتی ہے، موقع کی مُناسَبَت سے اس پر پھونک مار کر بھی کام چلایاجا سکتا ہے۔

قُربانی میں عقیقے کا حصّہ

قربانی کی گائے یا اُونٹ میں عقیقے کا حصّہ ہو سکتا ہے۔(رَدُّالْمُحتار ج ۹ص۵۴۰)


...[1] ترجَمۂ کنزالایمان:میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان وزمین بنائے ایک اُسی کا ہو کر اور میں مشرکوں میں نہیں ۔( پ۷، الانعام ۷۹ )

...[2] ترجَمۂ کنزالایمان:بے شک میری نَماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہ کیلئے ہے جو رب سارے جہان کا ( پ۸، الانعام ۱۶۲)

...[3] اس کا کوئی شریک نہیں مجھے یہی حکم ہے اور میں مسلمانوں میں ہوں ۔

...[4] اے اللہ (عَزَّ وَجَلَّ) تیرے ہی لیے اور تیری دی ہوئی توفیق سے، اللہ کے نام سے شروع اللہ سب سے بڑا ہے۔

...[5] اے اللہ (عَزَّ وَجَلَّ)تومجھ سے ( اس قربانی کو) قبول فرماجیسے تونے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام اور اپنے حبیب محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے قبول فرمائی۔ )بہارِ شریعت ج۳ص۳۵۲(

Share

  


ویڈیوز

قربانی کا عملی طریقہ دیکھنے کیلئے:                                 Click Here  

 

 

 

 

3 comments:

  1. Thanks for visit my site.
    Please follow me for this kine information

    ReplyDelete
  2. Nice and athletic information.
    Thanks for guidance ❣️❣️🥰🥰

    ReplyDelete